نئی دہلی،24/جولائی (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں بدھ کو وزارت داخلہ کی جانب سے پیش کئے گئے قانون مخالف سرگرمی (سراغ رساں) ترمیم بل) پر بحث ہوئی۔اپوزیشن کی جانب سے اس بحث کے دوران بل کی مخالفت کی گئی اور کئی طرح کے سوال کھڑے کئے گئے۔بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر جم کر حملہ بولا۔انہوں نے کہا کہ آج وقت کا مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سخت قانون بنایا جائے۔ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانون کے دل میں اربن نکسلیوں کے لئے کوئی رحم نہیں ہے۔ایک طویل بحث کے بعد لوک سبھا میں یہ بل پاس ہو گیا۔لوک سبھا میں امت شاہ نے کہا یہ قانون اندرا گاندھی کی حکومت لے کر آئی تھی، ہم صرف اس میں چھوٹی سی ترمیم کر رہے ہیں لیکن حزب اختلاف کے جو لیڈر اس کی مخالفت کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب انہوں نے اس بل میں ترمیم کی تھی وہ بھی درست تھا اور آج جو ہم کر رہے ہیں وہ بھی درست ہے۔اربن نکسلیوں کو لے کر انہوں نے کہا کہ سماجی زندگی میں ملک کے لئے کام کرنے والے بہت سے لوگ ہیں، لیکن اربن نکسلی کے لئے جو کام کرتے ہیں ان کے لئے ہمارے دل میں بالکل بھی رحم نہیں ہے۔قانون کے غلط استعمال کے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بل میں دفعات ہیں کہ کسی شخص کو کب دہشت گرد قرار دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی بندوق سے نہیں بلکہ تشہیر اور شرپسندی سے پیدا ہوتا ہے،ایسا کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دینے میں کسی کو اعتراض کیوں ہو رہا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اگرچہ اس بل میں بھی ہم نے اپیل کے لئے اختیارات کھلے رکھے ہیں۔امت شاہ نے کہا کہ جو لوگ یوپی اے حکومت کے دوران ہمارے خلاف تحقیقات کر رہے تھے وہی آج این آئی اے میں ملازمین ہیں، تب ان پر بھروسہ تھا تو آج کیوں نہیں ہے۔امت شاہ نے کہا کہ اگر شخص کے ذہن میں دہشت گردی ہے تو تنظیم پرپابندی لگانے سے کچھ نہیں ہوگا، تب تو وہ نئی تنظیم بنا لے گا، اس کی وجہ سے شخص کو بھی دہشت گرد قرار دینے کا قانون لانا ضروری ہے۔انہوں نے اس دوران امریکہ، اقوام متحدہ، چین، اسرائیل اور پاکستان جیسے ممالک کی بھی مثال دی۔